کولکاتہ،31اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کشمیر میں مغربی بنگال کے مزدوروں کے قتل کے معاملے میں وزیر اعلی ممتا بنرجی نے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ممتا نے کہا کہ میں مقامی اور مہاجر لوگوں میں کوئی فرق نہیں کرنا چاہتی ہوں، کیونکہ تمام انسان ہیں،سب ریاست میں دوسرے ریاست کے لوگ رہتے ہیں۔بنگال کے مزدوروں پر حملہ پورے منصوبے کے ساتھ کیا گیا ہے،وہ واپس آنے والے تھے، لیکن تبھی ان کا اغوا کر لیا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی مکمل انتظامیہ مرکزی حکومت کے تحت آتی ہے،تمام احتیاط کے باوجود ایسے حادثے کس طرح ہوئے۔اس دن یوروپین یونین کاوفد بھی آیا تھا،ہم حیران ہیں،اس پورے معاملے کی جانچ ہونی چاہئے،یہ ہندوستان ہے، یہاں کوئی بھی کسی بھی ریاست میں رہ سکتا ہے،قتل کے پیچھے کوئی منصوبہ تھا۔جموں و کشمیر کے کولگام میں دہشت گردوں کی طرف سے ہلاک 5 مزدوروں کے خاندانوں سے کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے بدھ کو ملاقات کی تھی۔اس کے بعد انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر متاثرہ خاندانوں کو مالی مدد دینے کی اپیل بھی کی۔انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے وہاں ایک کل جماعتی وفد بھیجنے کی میرے تجاویز پر بھی غور کریں۔بتا دیں کہ جموں اور کشمیر کے کولگام میں منگل کو دہشت گردوں نے 5 مزدوروں کو قتل کر دیا تھا،تمام 5 مزدور مغربی بنگال کے مرشدآباد کے رہنے والے تھے،ہلاک مزدوروں کے نام کمال الدین، محمدسالم، رفیق اور نعیم الدین۔